ہمارا تعلیمی نظام


 کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے اچھے نظام تعلیم فن لینڈ اور سویڈن کا ہے۔ فن لینڈ میں بچے کو سات سال کی عمر میں سکول میں داخل کیا جاتا ہے۔ شروع کے چند سالوں میں کوئی کتاب نہیں ہوتی بلکہ بچے کو مختلف عملی سرگرمیوں کے ذریعے سکھایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بچے کے بڑے ہونے تک کوئی امتحان نہیں لیا جاتا۔


اس کے برعکس جب میں وطن عزیز کے نظام تعلیم کی طرف دیکھتا ہوں تو بڑی تکلیف دہ صورتحال نظر آتی ہے۔ ہمارے یہاں بچہ تین سال کا ہوتا ہے تو سکول میں داخل کرا دیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں سکولوں کے بھی دو نظام چل رہے ہیں۔ غریب کے لئے الگ سکول اور امیر کے لئے الگ سکول ہیں۔ فی الوقت میں خواص کو چھوڑ کر عام لوگوں کے تعلیمی نظام پر ہی بات کروں گا۔


ہمارے سرکاری سکولوں میں بچے کو داخلے کے ساتھ ہی بھاری بھرکم کتابوں کا بوجھ تھما دیا جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے کندھوں پر وزنی بستوں کا بوجھ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ مار پیٹ اور سختی کا کلچر عام ہے۔ شروع سے ہی بچوں پر امتحانات اور مختلف ٹیسٹوں کا بوجھ بھی ڈال دیا جاتا ہے۔ بچوں کو کم از کم شروع کے تین چار سال کھیل کود اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے تعلیم دینی چاہیے۔ اہم مضامین کو مختلف ابواب کی صورت میں تحریر کر کے ایک کتاب بنانی چاہیے۔


نصاب، سکول کا ماحول، اساتذہ کا رویہ اور نظام تعلیم ایسا ہونا چاہیے جس سے بچے کے اندر پڑھنے کا شوق پیدا ہو۔ مار پیٹ اور سختی کا کلچر ختم ہونا چاہیے اور اس کے خلاف شکایات کا موثر نظام متعارف کرانا چاہیے۔ شکایت باکس اور آن لائن سسٹم سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اساتذہ اور والدین کی زیادہ سے زیادہ میٹنگز ہونی چاہئیں تاکہ بچے کی کارکردگی، مسائل اور شکایات کا بروقت تبادلہ ہو سکے۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

سرورِ کونین ﷺ کے سوا کوئی صادق اور امین نہیں۔۔۔

*ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور تباہ کاریاں

داڑھی کی شرعی حیثیت قرآن وسنت کی روشنی میں۔۔