ماہ رجب المرجب کی فضیلت و عبادات
🌻 *ماہِ رجب کی فضیلت اور عبادت*
📿 *رجب حُرمت اور عظمت والا مہینہ ہے:*
رجب قمری یعنی اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے، یہ اُن چار بابرکت مہینوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بناتے وقت ہی سے بڑی عزت، عظمت، احترام، فضیلت اور اہمیت عطا فرمائی ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
📿 *’’اَشْہُرُ الْحُرُم‘‘ یعنی حرمت اور عظمت والے چار مہینے:*
اللہ تعالیٰ نے سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو عظمت اور حرمت عطا فرمائی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ میں فرماتے ہیں:
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا فِي كِتٰبِ اللّٰهِ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡأَرۡضَ مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٌ ۚذٰلِكَ الدِّينُ الۡقَيِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ.... (36)
▪ *ترجمہ:* حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے، جو اللہ کی کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) کے مطابق اُس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیاتھا۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا (تقاضا) ہے، لہٰذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ (آسان ترجمہ قرآن)
اس آیت مبارکہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلامی سال کے بارہ مہینے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں، جس سے اسلامی سال اور اس کےمہینوں کی قدر وقیمت اور اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح اس سے معلوم ہوا کہ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینےحرمت، عظمت اور احترام والے ہیں، ان کو ’’اَشْہُرُ الْحُرُم‘‘ کہا جاتا ہے، یہ مضمون متعدد احادیث میں آیا ہے جس سے ان چار مہینوں کی تعیین بھی واضح ہوجاتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ: ’’زمانہ اب اپنی اُسی ہیئت اور شکل میں واپس آگیا ہے جو اُس وقت تھی جب اللہ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا تھا (اس ارشاد سے مشرکین کے ایک غلط نظریے اور طرزِ عمل کی تردید مقصود ہے جس کا ذکر اسی سورتِ توبہ آیت نمبر 37 میں موجود ہے۔)، سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینےحُرمت (، عظمت اور احترام) والے ہیں، تین تو مسلسل ہیں یعنی: ذُوالقعدہ، ذُوالحجہ اور مُحرم، اور چوتھا مہینہ رجب کا ہے جو کہ جُمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے۔‘‘
3197- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «اَلزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا: أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ».
📿 *’’اَشْہُرُ الْحُرُم‘‘ کی فضیلت کا نتیجہ اور اس کا تقاضا:*
ان چار مہینوں (یعنی ذُوالقعدہ، ذُو الحجہ، مُحرم اور رجب) کی عزت وعظمت اور احترام کی بدولت ان میں ادا کی جانے والی عبادات کےاجر وثواب میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ گناہوں کے وبال اور عذاب میں بھی زیادتی ہوتی ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان مہینوں میں عبادات کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنےکا بخوبی اہتمام کرنا چاہیے۔ حضرات اہلِ علم فرماتے ہیں کہ جو شخص ان چار مہینوں میں عبادت کا اہتمام کرتا ہے اس کو سال کے باقی مہینوں میں بھی عبادات کی توفیق ہوجاتی ہے، اور جو شخص ان مہینوں میں گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے تو سال کے باقی مہینوں میں بھی اسے گناہوں سے بچنے کی توفیق ہوتی ہے۔
(احکام القرآن للجصاص سورۃ التوبہ آیت: 36، معارف القرآن سورۃ التوبہ آیت: 36)
⬅️ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ سے اس آیت کی تفسیر نقل کی جاتی ہے، مفتی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”تمام انبیاء علیہم السلام کی شریعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ان چار مہینوں میں ہر عبادت کا ثواب زیادہ ہوتا ہے، اور ان میں کوئی گناہ کرے تو اس کا وبال اور عذاب بھی زیادہ ہے۔“
مفتی صاحب رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں کہ:
▪ ’’پہلی آیت میں ارشاد ہے: ’’إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا‘‘ اس میں لفظِ عِدَّةَ تعداد کے معنی میں ہے، اور ’’شھور‘‘ شَہر کی جمع ہے، ’’شھر‘‘ کے معنی مہینہ ہے، معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ متعین ہے، اس میں کسی کو کمی بیشی کا کوئی اختیار نہیں۔
▪ اس کے بعد ’’فِي كِتٰبِ اللّٰهِ‘‘ کا لفظ بڑھا کر بتلا دیا کہ یہ بات ازل سے لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی تھی، پھر ’’يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡأَرۡضَ‘‘ فرما کر اشارہ کردیا کہ قضائے خداوندی اس معاملہ میں اگرچہ ازل میں جاری ہوچکی تھی، لیکن یہ مہینوں کی ترتیب اور تعیین اس وقت عمل میں آئی جب آسمان وزمین پیدا کیے گئے۔
▪ پھر ارشاد فرمایا: ’’مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٌ‘‘، یعنی ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، ان کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا: ایک تو اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں، ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے، ان میں سے پہلا حکم تو شریعتِ اسلام میں منسوخ ہوگیا، مگر دوسرا حکم احترام وادب اور ان میں عبادت گذاری کا اہتمام اسلام میں بھی باقی ہے۔
▪حجۃ الوداع کے خطبہ یوم النحر میں رسول کریم ﷺ نے ان مہینوں کی تشریح یہ فرمائی کہ تین مہینے مسلسل ہیں: ذی القعدہ، ذی الحجہ، محرم اور ایک مہینہ رجب کا ہے۔ مگر ماہِ رجب کے معاملہ میں عرب کے دو قول مشہور تھے، بعض قبائل اس مہینہ کو رجب کہتے تھے جس کو ہم رمضان کہتے ہیں، اور قبیلہ مضر کے نزدیک رجب وہ مہینہ تھا جو جمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کو رجبِ مضر فرما کر یہ وضاحت بھی فرمادی کہ جو جمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے وہ ماہِ رجب مراد ہے۔
▪ ’’ذٰلِكَ الدِّينُ الۡقَيِّمُۚ‘‘: یہ ہے دینِ مستقیم، یعنی مہینوں کی تعیین اور ترتیب اور ان میں ہر مہینہ خصوصًا اشہر حرم کے متعلق جو احکام ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے حکمِ ازلی کے مطابق رکھنا ہی دینِ مستقیم ہے، اس میں اپنی طرف سے کمی بیشی اور تغیر و تبدل کرنا کج فہمی اور کج طبعی کی علامت ہے۔
▪ ’’فَلَا تَظۡلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ‘‘: یعنی ان مقدس مہینوں میں تم اپنا نقصان نہ کر بیٹھنا کہ ان کے معینہ احکام و احترام کی خلاف ورزی کرو یا ان میں عبادت گذاری میں کوتاہی کرو۔
امام جصاص رحمہ اللہ نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان متبرک مہینوں کا خاصہ یہ ہے کہ ان میں جو شخص کوئی عبادت کرتا ہے اس کو بقیہ مہینوں میں بھی عبادت کی توفیق اور ہمت ہوتی ہے، اسی طرح جو شخص کوشش کرکے ان مہینوں میں اپنے آپ کو گناہوں اور برے کاموں سے بچا لے تو باقی سال کے مہینوں میں اس کو ان برائیوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے، اس لیے ان مہینوں سے فائدہ نہ اٹھانا ایک عظیم نقصان ہے۔‘‘ (معارف القرآن: 4/370تا 372)
⬅️ ’’احکام القرآن للجصاص‘‘ کی ایمان افروز عبارت ملاحظہ فرمائیں جو کہ سورۃ التوبہ آیت: 36 کی تفسیر میں مذکور ہے:
وَإِنَّمَا سَمَّاهَا حُرُمًا؛ لِمَعْنَيَيْنِ: أَحَدُهُمَا: تَحْرِيمُ الْقِتَالِ فِيهَا وَقَدْ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ أَيْضًا يَعْتَقِدُونَ تحريم القتال فيها، وقال الله تعالى: «يسئلونك عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فيه كبير»، وَالثَّانِي: تَعْظِيمُ انْتِهَاكِ الْمَحَارِمِ فِيهَا بِأَشَدَّ مِنْ تَعْظِيمِهِ فِي غَيْرِهَا وَتَعْظِيمِ الطَّاعَاتِ فِيهَا أَيْضًا، وَإِنَّمَا فَعَلَ اللهُ تَعَالَى ذَلِكَ؛ لِمَا فِيهِ مِن الْمَصْلَحَةِ فِي تَرْكِ الظُّلْمِ فِيهَا لِعِظَمِ مَنْزِلَتِهَا فِي حُكْمِ اللهِ وَالْمُبَادَرَةِ إلَى الطَّاعَاتِ من الاعتمار وَالصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَغَيْرِهَا كَمَا فَرَضَ صَلَاةَ الْجُمُعَةِ فِي يَوْمٍ بِعَيْنِهِ وَصَوْمَ رَمَضَانَ فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ وَجَعَلَ بَعْضَ الْأَمَاكِنِ فِي حُكْمِ الطَّاعَاتِ، وَمُوَاقَعَةُ الْمَحْظُورَاتِ أَعْظَمُ مِنْ حُرْمَةِ غَيْرِهِ نَحْوَ بَيْتِ اللهِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَيَكُونُ تَرْكُ الظُّلْمِ وَالْقَبَائِحِ فِي هَذِهِ الشُّهُورِ وَالْمَوَاضِعِ دَاعِيًا إلى تركها في غيره، ويصير فِعْلِ الطَّاعَاتِ وَالْمُوَاظَبَةِ عَلَيْهَا فِي هَذِهِ الشُّهُورِ وَهَذِهِ الْمَوَاضِعِ الشَّرِيفَةِ دَاعِيًا إلَى فِعْلِ أَمْثَالِهَا فِي غَيْرِهَا لِلْمُرُورِ وَالِاعْتِيَادِ وَمَا يَصْحَبُ اللهُ الْعَبْدَ مِنْ تَوْفِيقِهِ عِنْدَ إقْبَالِهِ إلَى طَاعَتِهِ وَمَا يَلْحَقُ الْعَبْدَ مِنَ الْخِذْلَانِ عِنْدَ إكْبَابِهِ عَلَى الْمَعَاصِي وَاشْتِهَارِهِ وَأُنْسِهِ بِهَا، فَكَانَ فِي تَعْظِيمِ بَعْضِ الشُّهُورِ وَبَعْضِ الْأَمَاكِنِ أَعْظَمُ الْمَصَالِحِ فِي الِاسْتِدْعَاءِ إلَى الطَّاعَاتِ وَتَرْكِ الْقَبَائِحِ، وَلِأَنَّ الْأَشْيَاءَ تَجُرُّ إلَى أَشْكَالِهَا وَتُبَاعِدُ مِنْ أَضْدَادِهَا فَالِاسْتِكْثَارُ مِنَ الطَّاعَةِ يَدْعُو إلَى أَمْثَالِهَا وَالِاسْتِكْثَارُ مِنَ الْمَعْصِيَةِ يَدْعُو إلَى أَمْثَالِهَا.
📿 *ماہِ رجب المُرجَّب کی فضیلت کا تقاضا:*
ان چار حرمت اور عظمت والے مہینوں میں سے چوں کہ رجب کا مہینہ بھی ہے، اس لیے اس کی عزت واحترام کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اس مہینے میں عبادات کی طرف بھرپور توجہ دی جائے اور گناہوں سے بچنے کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔
📿 *ماہِ رجب کے شب وروز کی عبادات:*
رجب کے مہینہ کی فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں عبادات کا اہتمام کیا جائے، یہ عبادات دن کو بھی ادا کی جاسکتی ہیں اور رات کو بھی، اس کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں، بلکہ ہر شخص اپنی وسعت کے مطابق پورے مہینے کے شب وروز میں جس قدر نوافل، ذکر وتلاوت اور دعاؤں وغیرہ کا اہتمام کرسکتا ہے، یہ فضیلت کی بات ہے۔ اسی طرح جن کو رات کے وقت عبادات کا موقع میسر آتا ہے تو وہ جتنی راتیں یا راتوں کا جس قدر حصہ عبادات میں بسر کرسکتا ہے تو یہ بھی سعادت کی بات ہے، البتہ راتوں کو عبادات کا یہ اہتمام مساجد کی بجائے اپنے گھروں میں ہونا چاہیے اور یہی افضل ہے، اس لیے مساجد میں جمع ہوکر راتیں بسر کرنا، اس کو فضیلت دینا یا اس کا اہتمام کرنا شریعت کے مزاج کے موافق نہیں، بلکہ متعدد خرابیوں کا سبب ہے۔
📿 *ماہِ رجب سے متعلق کوئی مخصوص عبادات ثابت نہیں:*
یہ بات بلا شبہ درست ہے کہ اس مہینے میں عبادات کے اہتمام اور نیکیوں کے ذوق وشوق میں اضافہ ہونا چاہیے، البتہ یہ یاد رہے کہ اس مبارک مہینے کی کسی تاریخ، دن یا رات میں شریعت نے کوئی خاص عبادت مقرر نہیں فرمائی اور نہ ہی خصوصیت کے ساتھ کسی اضافی عبادت کو کسی موقع پر سنت یا لازم قرار دیا ہے، بلکہ موقع محل کے اعتبار سے شب وروز میں نوافل، روزے، ذکر وتلاوت، دعائیں، صدقات اور اس طرح کی دیگر جتنی بھی نیکیاں اور عبادات ہیں وہ ادا کی جاسکتی ہیں۔ اس لیے اس مہینے میں اپنی طرف سے کوئی عبادت ایجاد کرنا، اسے سنت یا لازم قرار دینا اور اس کا خصوصی اہتمام کرنا شریعت کے خلاف اور بدعت ہے۔
اس سے ان حضرات کی غلطی واضح ہوجاتی ہے کہ جو ماہِ رجب کی کسی تاریخ یا دن رات سے متعلق خاص نمازیں، روزے یا دیگر عبادات مقرر کرلیتے ہیں اور ان کے بے بنیاد فضائل بیان کرتے ہیں، یاد رہے کہ یہ باتیں دین کی واضح خلاف ورزی اور بہت بڑا گناہ ہے۔ جیسے آجکل بعض لوگوں نے ستائیس رجب کے حوالے سے اپنی طرف سے ایک نماز ایجاد کر رکھی ہے کہ دو یا چار رکعات اس طرح ادا کی جائیں کہ پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد فلاں سورت اتنی بار پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی بار پڑھی جائےتو واضح رہے کہ یہ بھی قرآن وسنت سے ثابت نہیں۔ اس لیے اپنی طرف سے کسی رات یا دن سے متعلق فضائل بیان کرنا یا عبادات خاص کرنا شریعت کے خلاف اور بہت بڑا جرم ہے۔
(فتاوی ٰمحمودیہ)
▪ *فائدہ:*
ماہِ رجب کے اعمال اور فضائل سے متعلق عوام میں بہت سی منگھڑت، غیر معتبر اور غیر شرعی باتیں رائج ہیں،جن کا قسط وار جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ قارئین کے لیے مختصر تحریر سہولت کا باعث بنے، اس لیے آئندہ کی چند قسطیں بھی اسی موضوع کے
حوالے سے ہوں گی، ان شاء اللہ۔
Comments
Post a Comment