اسلاف اور کاروبار
اسلاف اور کاروبار
۔
سلف صالحین تو ہمیشہ مالی طور پر خود مختار اور خود کفیل رہے اور دین کی خدمت پوری یکسوئی کیساتھ کرتے رہے
۔
ہمارے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ و سلم خود تجارت کرتے رہے اور آپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خلفاء راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ساری زندگی تجارت ہی کو اپنا ذریعہ معاش بنائے رکھا اور رزقِ حلال کمانے کیلیے کوئی کاروبار کرنے کو ہرگز عار نہ سمجھا
۔
تابعین ، تبع تابعین ، مفسرین کرام ، محدثین کرام ، فقہاءِ اسلام خصوصا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ جن کے ہم پیروکار ہیں اور بڑے فخر سے ہم اپنے آپ کو حنفی کہتے اور لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کس کو نہیں پتا کہ امام صاحب فقہ کی امامت کیساتھ ساتھ کپڑے کے بہت بڑے تاجر بھی تھے اور اپنی تجارت سے حاصل شدہ رقم علماء ، طلباء اور شاگردوں پر خرچ کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن پتا نہیں پھر ہماری علمی برادری کو کیا ہو گیا کہ اب رزق حلال کمانے کے لیے کوئی بھی جائز اور حلال طریقہ اختیار کرنا دین سے بغاوت بن گیا ؟
حضرات علماء کرام ! آپ حضورؐ کی پوری وراثت کے مالک ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ حضور کی وراثت سمجھتے ہوئے امامت ، خطابت اور تدریس ضرور کریں لیکن خدا را دینی خدمات کیساتھ ساتھ اپنی اور اپنے گھر والوں کی معاشی و مالی ضروریات کو پورا کرنے کیلیے کوئی مناسب جز وقتی کاروبار ضرور کریں تاکہ آپ کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے ۔۔۔۔۔ یقین کریں کہ جائز کاروبار کرنا تقویٰ اور دینداری کے ہرگز خلاف نہیں ہے۔۔۔۔۔خدا را اپنی سوچ بدلیں ورنہ زمانہ آپ کو پیچھے چھوڑ کر بہت آگے نکل جائے گا اور آپ کے پاس رونے دھونے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔ یاد رکھیں ! خود مختار اور خود کفیل علماء ہی زمانے کی قیادت کے صحیح حقدار ہیں، والسلام
Comments
Post a Comment